کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 17
ترجمہ: اے ا یمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو ایسے کفار کی دوستی بھی مسلمانوں پر حرام قراردے دی ہے ،جو خونی رشتے اور نسب کے اعتبار سے انتہائی قریب ہوں۔فرمایا: [یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَکُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ ۭ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ] ترجمہ:اے ایمان والو! اگر تمہارے (ماں )باپ اور( بہن) بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں ،تو ان سے دوستی مت رکھو اور تم میں سے جو بھی ایسوں سے دوستی رکھیں گے وہ یقینا ظالم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: [لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ ۭ]