کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 18
ترجمہ:جو لوگ اللہ تعالیٰ اور روز ِآخرت پر یقین رکھتے ہیں،انہیں تم ایسے لوگوں سے دوستی رکھنے والا نہیں پاؤ گے جو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول سے دشمنی رکھتے ہوں،خواہ وہ ان کے( ماں) باپ، اولاد،(بہن )بھائی یا خاندان کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں ۔ آج اس عظیم شرعی قاعدے سے بہت سے لوگ غافل اور ناآشناہیں ۔حتی کہ میں نے تو ایک عرب ریڈیو سے ایک ایسے شخص کو جو اپنے آپ کو عالم اور داعی سمجھتا ہے ،یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نصاریٰ ہمارے بھائی ہیں ۔ہائے افسوس ! یہ بات کتنی خطرناک ہے ۔ برادرانِ اسلام ! جس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار اور عقیدئہ اسلامیہ کے دشمنوں کی دوستی کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح ان کے مقابل مسلمانوں (مومنوں) سے دوستی قائم کرنے اور محبت رکھنے کو واجب قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : [اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَہُمْ رٰکِعُوْنَ 55؀ وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ [ ترجمہ:تمہارے دوست توصرف اللہ تعالیٰ ،اسکا رسول اور مؤمن لوگ ہی ہیں ،جو نماز