کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 26
ان آیاتِ کریمہ نے واضح کردیا کہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے کس قدر کینہ اور بغض چھپا ہوا ہے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف مکر وخیانت کی کیا کیا تدبیریں اورپالیسیاں مرتب کرتے رہتے ہیں۔ ہر حیلہ اور وسیلہ بروئے کار لاکر مسلمانوں کو مبتلائے ضرر رکھنا،ان کاپسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ مکر وفریب سے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد ان کی مضرت وتذلیل کی منصوبہ بندی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ امام احمدرحمہ اللہ نے ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ’’میرے پاس ایک عیسائی کاتب ہے ‘‘تو امیر المؤمنین نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے ۔عیسائی کاتب رکھنے کی کیا سوجھی کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا !(اے ایمان والو!یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔)تم نے کوئی مسلمان کاتب کیوں نہ رکھا ؟میں نے کہا :امیر المؤمنین اس کا دین اس کے لئے ہے ۔مجھے تو اپنی کتابت چاہئے ۔فرمایا: ’’ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذلیل ورسوا کردیا ہے میں انہیں عزت وکرامت نہیں دے سکتا اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہم سے دور کردیا ۔میں انہیں اپنے قریب نہیں کرسکتا‘‘