کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 27
مسند احمد اور صحیح مسلم میں ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر کے لئے نکلے ۔تو ایک مشرک آدمی بھی ساتھ ہولیا اور حرہ مقام پر ملاقات کرتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(کیا تم اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟)اس نے کہا نہیں۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(تم واپس لوٹ جاؤ۔ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیا کرتے ) ان دلائل سے واضح ہوا کہ مسلمانوں کے امور سے متعلق کفار کو کسی منصب پر فائز کرنا حرام ہے ، کیوں کہ وہ اس طرح مسلمانوں کے حالات اور خفیہ بھید بڑی آسانی سے حاصل کرلیں گے اورنتیجۃً ان کی ضرر رسانی کا سامان تیار کرنے کی سازشیں کرنے لگیں گے۔ آج کل کفار کو مسلمانوں کی سرزمین ،حرمین شریفین پر مزدور ،کاریگر،ڈرائیور یاخدمت گار کے طورپر لایاجارہا ہے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ ان کے علاقوں میں مخلوط زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ گھروں میںمربی کی حیثیت سے رکھا جارہا ہے اور وہ مسلمانوں کی فیملیوں کے ساتھ مخلوط زندگی گزار رہے ہیں ۔ آج کے دور میں یہ روش حرمت اور انجام کار کی تباہی کے اعتبار سے سابقہ روش سے کوئی مختلف نہیں ہے ۔ (۶)کفار کے ہا ں مروجہ تا ر یخ کو اپنا نا: یعنی جو تاریخ بلادِ کفر میں رائج ومستعمل ہے،اسے اختیار کرلینا بھی ان سے محبت کی