کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 29
اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے : [وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ ۙ] ای مِنْ صِفَا تِ عِبَادِ ا لرَّحْمٰنِ اَ نَّھُمْ لَایَحْضُرُوْنَ اَعْیَادَا لْکُفَّارِ جس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ رحمن کے نیک بندے کفار کے تہواروں اور ان کی عیدوں میں حاضر نہیںہوتے ۔ (۸) کفار کی مدح سرائی اور ان کی تہذ یب و تمد ن کی تعر یف و تشہیر یعنی کفار کی مدح سرائی اور ان کی تہذیب وتمدن کی تعریف وتوصیف اور ان کے عقائدِ باطلہ اور دینِ فاسد سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ان کے اخلاق اور مہارات سے خوش ہونا،یہ سب ان کی محبت کی علامات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ڏ لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ۭ وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ١٣١؁]  ترجمہ:اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے ،تاکہ ان کی آزمائش کریں ،ان پر نگاہ نہ کرنا ۔اور تمہارے پروردگار کی عطا