کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 30
فرمائی ہوئی روزی بہت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگزنہیں ہے کہ مسلمان اپنی قوت اور استحکام کے اسباب ہی چھوڑ کر بیٹھ جائیں بلکہ ان کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف صنعتوںکی تعلیم حاصل کریں ، اقتصادیات کو مستحکم کرنے والی جائزراہیں اپنائیں اوردورِ حاضر کے تقاضوں کے ہم آہنگ عسکری اور حربی اسالیب کی تعلیم حاصل کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ] ترجمہ:جس قدر طاقت ہو تیراندازی (وغیرہ )سیکھ کر کفار کے مقابلے میں تیار رہو) کائنات کے یہ تمام وسائل ومنافع درحقیقت مسلمانوں ہی کے لئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : [قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ۭقُلْ ہِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ] ترجمہ:پوچھو کہ جو زینت وآرائش اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں ،ان کوحرام کس نے کیا ہے ؟کہہ دو! کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی