کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 32
کے نام ،یا ایسے نام جو ان کے معاشرے میں معروف ہوتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں ۔حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خَیْرُ الْاَسْمَا ءِ عَبْدُ اللّٰہِ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ ] ترجمہ:بہترین نام عبداللہ اور عبد الرحمن ہیں۔ ناموں کی اس تبدیلی کے مرض کے عام ہونے کی وجہ سے باقاعدہ ایسی مسلمان نسلیں وجود میں آگئیں ،جو مغربی ناموں کی حامل ہیں۔نتیجۃًسابقہ نسلوں سے رشتہ وناطہ توڑ بیٹھیں اورایسے خاندانوں سے تعارف کاسلسلہ بھی مفقود ہوگیا ،جنہوں نے اپنے مخصوص اسلامی ناموں کو اپنائے رکھا ۔ (۱۰)کفار کے حق میں د عا کرنا: کفار کے حق میں مغفرت ورحمت کی دعا کرنا بھی ان سے محبت کی دلیل ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے اور فرمایا: [مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ١١٣؁] ترجمہ: نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ،کو لائق نہیں ،کہ جن پر ظاہر ہوگیا ہوکہ مشرکین اہلِ دوزخ ہیں تو ان کے لئے بخشش مانگیں ۔خواہ وہ ان کے قرابت دارہی کیوں نہ ہوں۔ اس دعا کی حرمت کی وجہ بالکل ظاہر ہے ،اور وہ یہ کہ دعا کرنا ان سے محبت کی نشانی ہے ۔نیز یہ ظاہر کرتی ہے کہ مشرکین بھی صحیح عقیدے پر قائم ہیں ۔(حالانکہ شرک اورمشرک انتہائی نجس اور پلید ہیں)