کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 34
لہذا ایک مسلمان پر کفار کی سرزمین میں رہنا حرام ہے ،الایہ کہ وہ ہجرت کی طاقت نہ رکھتا ہو یا پھر اس کے سرزمینِ کفر میں رہنے کی کوئی دینی مصلحت ہو ۔مثلاً:دعوت الی اللہ ،یا تبلیغِ دین وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰیھُمُ الْمَلٰۗیِٕکَةُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ ۭقَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا ۭفَاُولٰۗیِٕکَ مَاْوٰیھُمْ جَہَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِیْرًا 97؀ۙ اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّلَا یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا 98؀ۙفَاُولٰۗیِٕکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا ] ترجمہ:جو لوگ اپنے جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں، کہ تم کس حال میں تھے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کا ملک فراخ نہیں تھا، کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ؟تو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے ۔ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بے بس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی راستہ جانتے ہیں ،قریب ہے کہ