کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 35
اللہ تعالیٰ ایسوں کو معاف کردے، اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ (۲) مسلما نوں کے سا تھ حسن تعا و ن مسلمانوں کی مدد اور ان کی دینی ودنیوی ضروریات میں جان ومال اور زبان کے ساتھ معاونت بھی محبت کی ایک نشانی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَاۗءُ بَعْضٍ] ترجمہ:اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں …۔ اور فرمایا: [وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍۢ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ ] ترجمہ:اور اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تم پران کی مدد کرنا واجب ہے الا یہ کہ وہ ایسی قوم کے خلاف مدد طلب کریں جس کا تمہارے ساتھ کوئی معاہدہ ہے ۔ (۳)مسلما نو ں کی تکلیف پر غمز د ہ ہو نا اور انکی خوشی پر خوش ہو نا یہ بھی باہم محبت اور الفت کی ایک زبردست نشانی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ تَوَادِّھِمْ وَتَعَا طُفِھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ کَا لْجَسَدِ الْوَاحِدِ اِذَااشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌتَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِا لْحُمّٰی وَالسَّھَرِ]