کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 39
(مؤمن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ہی ایک دوسرے کا بُرا نام رکھو ۔ایمان لانے کے بعد بُرا نام (رکھنا )گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔ اے اہلِ ایمان!بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرواور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے ۔کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔اس سے تم ضرور نفرت کروگے، (توغیبت نہ کرو)اور اللہ تعالیٰ سے ڈر رکھو،بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والامہربان ہے۔ (۶) ہر حا ل میں و فا دار ی: مسلمانوں سے محبت اور دوستی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر حال میں ان کے ساتھ رہے خواہ تنگی ہویاآسانی ،سختی ہویانرمی،صرف آسانی اور نرمی کی حالت میں ساتھ دینا اور سختی اور تکلیف کی حالت میں ساتھ چھوڑ دینا تو منافقین کا شیوہ ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ۚ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ ڮ وَاِنْ کَانَ لِلْکٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَنَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۭفَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ۭ وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا ۧ ] ترجمہ:جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں ،اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کہ کیاہم