کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 40
تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروںکو فتح نصیب ہو تو ان سے کہتے ہیں کہ کیاہم تم پر غالب نہیں تھے ،اور تم کو مسلمانوں( کے ہاتھوں) سے بچایا نہیں ۔تو اللہ تم میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کو مؤمنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔ (۷) ز یار تو ں اور ملاقا تو ں کا تسلسل مسلمانوں کا ایک دوسرے کی زیارت کرتے رہنا ،ملاقات کی چاہت رکھنا،اور مل جل کر بیٹھنے کا شوق رکھنا ،باہمی محبت کی دلیل ہے ۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [ وَجَبَتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ۔۔۔وفی حدیث آخر ۔۔۔اَنَّ رَجُلاً زَارَ اَخًا لَّہٗ فِی اللّٰہِ فَأَ رْصَدَ اللّٰہُ عَلٰی مَدْ رَجَتِہٖ مَلَکًا ، فَسَأَ لَہٗ اَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ أَزُوْرُ اَخًا لِیْ فِی اللّٰہِ ۔ قَالَ ھَلْ لَکَ عَلَیْہِ مِنْ نِعْمَۃٍ تُرِبُّھَا عَلَیْہِ ؟ قَالَ: لَا ،غَیْرَ اَنِّیْ اَحْبَبْتُہٗ فِی اللّٰہِ قَالَ فَانِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکَ بِاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَہٗ فِیْہِ] ترجمہ:محض میری رضا کی خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والے والوں کے لئے میری محبت واجب ہوجاتی ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)ایک آدمی محض اللہ تعالیٰ کی