کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 41
رضاء کی خاطر اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لئے نکلا ،اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھادیا جو اس کا انتظار کررہا تھا (جب وہ شخص وہاں پہنچا )تو اس فرشتے نے سوال کیا ،کہاں جاناچاہتے ہو؟اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے اپنے بھائی کو ملنے جارہاہوں،فرشتے نے کہا کیا تمہارا کوئی اس پر احسان ہے ،جس کا بدلہ وصول کرنے جارہے ہو؟اس نے جواب دیا، نہیں۔میں صرف اس سے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہوں، تو اس فرشتے نے کہا:میں تمہاری طرف اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا نمائندہ ہوں اور یہ بتانے آیا ہوں کہ جس طرح تم نے اپنے اس بھائی سے اللہ تعالیٰ کی رضا ء کی خاطر محبت کی ہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگا ہے ۔ (۸) با ہمی حقو ق کا ا حترام : حقوق کا احترام بھی محبت میں اضافہ کا موجب ہے ،چنانچہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی خرید پر اپنی خرید نہیں لگاتا اور نہ ہی اس کی بولی پر بولی لگاتا ہے ۔نہ اس کی منگنی پر اپنی منگنی کا پیغام بھیجتا ہے ۔ الغرض جس مباح کام پر جو سبقت لے جائے ،دوسرا اس کے آڑے نہیں آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (خبردار کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے ۔نہ اس کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام بھجوائے ) ایک اور روایت میں ہے اور نہ اس کی لگائی ہوئی قیمت پر اپنی قیمت لگائے ۔