کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 43
طالب ہیں ،ان کے ساتھ صبر کرتے رہو،اور تمہاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانیٔ دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ (۱۰)د عاء خیر : ایک مسلمان کا دوسرے مسلمانوں کے لئے دعاء کرنا اور استغفار چاہنا بھی باہمی محبت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ] ترجمہ: اپنے گناہوں اورتمام مؤمن مرد اور عورتوں کے لئے مغفرت طلب کر ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر مؤمنین کی اسی دعا کا ذکر فرمایا ہے : [رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ](الحشر:۱۰) ترجمہ: اے ہمارے رب !ہمیں بخش دے اور ہمارے ان تمام بھائیوں کو بھی بخش دے جو بحالتِ ایمان ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ تنبیہ :(قرآن حکیم کی ایک آیت سے کچھ لوگوں کو ایک غلط فہمی ہوسکتی ہے ،جس کا ازالہ ضروری ہے)وہ آیت یہ ہے ۔ [لَا یَنْہٰیکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْہِمْ ۭ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ]