کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 44
ترجمہ: جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا ،اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے غلط فہمی کی بنا ء پر کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں بعض کفار سے دوستی اور محبت قائم کرنے کا حکم ملتا ہے۔ حالانکہ یہ مفہوم غلط ہے۔اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار میں سے جو مسلمانوں کو اذیت پہنچانے سے باز آجائیں،نہ تو ان سے جنگ کریں اور نہ ہی انہیں انکے گھروں سے نکالیں تو مسلمان اسکے مقابلے میں عدل واحسان کے ساتھ دنیوی معاملات میں مکافاتِ عمل اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کریں ،نہ کہ ان سے دلی محبت اور دوستی کا رشتہ استوار کریں ۔ تو گویایہاں حکم نیکی اور احسان کا ہے ،نہ کہ دوستی اور محبت کا ،اس کی ایک اور مثال:۔ [وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ۙفَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ۡ وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ] ترجمہ: اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے کہ