کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 45
جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں، تو ان کا کہنا نہ ماننا ۔ہاں ! دنیا کے (کا موں)میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے، اس کے رستے پر چلنا۔ اسماءرضی اللہ عنہا کی والدہ جو کہ کافرہ تھیں ،ان کی پاس آئیں اوران سے ماں ہونے کے ناطے صلہ رحمی طلب کی، اسماءرضی اللہ عنہا نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا ہے : [لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُم] ترجمہ: ایسے لوگ تمہیں نہیں ملیں گے جو اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھتے ہوں ،خواہ ان کے باپ یا بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی مکافات اور صلہ رحمی اور شیٔ ہے اور قلبی محبت اور دوستی بالکل دوسری شیٔ ہے ۔ بلکہ اس صلہ رحمی اور حسنِ معاملہ میں کفار کو اسلام کی طرف راغب کرنے کا پہلورکھا گیا ہے اور یہ چیز دعوت ِدین کے طرق میں سے ہے ،جب کہ محبت اور دوستی کا معاملہ اس سے