کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 46
بالکل مختلف ہے، محبت اور دوستی تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کافر اپنے کفر پر صحیح ہے اور ہم اس سے راضی ہیں کیونکہ ایسا شخص اس کافر کو اسلام کی دعوت نہیں دے پاتا ۔ یہاں یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہئیے کہ کفار سے دوستی اور محبت کے حرام ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دنیوی معاملات کرنا بھی حرام ہیں ،نہیں ،دنیوی معاملات کئے جاسکتے ہیں ،مثلاً: جائز قسم کی تجارت کرنا،ان سے سامان اورمفید قسم کی مصنوعات منگوانا اور ان کی ایجادات سے فائدہ اٹھانا وغیرہ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار راستے کی رہنمائی کے لئے ابن اریقط اللیثی نامی کافر کو اجرت پر لیا تھا ۔ اس کے علاوہ بعض یہودیوں سے قرضہ لینا بھی ثابت ہے ۔ مسلمان ہمیشہ سے کفار سے مختلف مصنوعات اور سامان منگواتے رہے ہیں ،یہ ایک چیز کا قیمت کے بدلے خریدنا ہے، اس میں ان کا ہم پر کوئی احسان نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے محبت اور دوستی اور کافروں سے بغض وعداوت کو واجب قراردیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗیِٕکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَاۗءُ بَعْضٍ ]