کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 47
مال اور جان سے لڑے اور جنہوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ،وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا: [وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَاۗءُ بَعْضٍ ۭاِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ 73؀ۭ] ترجمہ: اور جو لوگ کافر ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے رفیق ہیں ،تو مؤمنو !اگر تم یہ کام نہ کروگے تو ملک میں فساد برپا ہوجائے گا۔ اس آیت ِ کریمہ کے تحت حافظ ابن کثیررحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’اگر تم مشرکین سے دور ہو کر نہیں رہوگے اور مومنین سے محبت نہیں کروگے ،تو لوگوں کے درمیان فتنہ واقع ہوجائے گا اور وہ اس طرح کہ مسلمانو ں کا کافروں کے ساتھ اختلاط اور اقتباس لازم آئے گا ، جس سے لوگوں کے درمیان بہت لمبا چوڑا فساد برپا ہوجائے گا ‘‘ میں کہتا ہوں کہ ہمارے اس زمانے میں یہ سب کچھ ظاہر ہوچکا ہے (واللہ المستعان)