کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 49
سے ایسی محبت کرنا واجب ہے ،جو اپنے نفس ،اولاد ،ماں باپ اور تمام لوگوں کی محبت پر حاوی اور غالب اور سب سے بڑھ کر ہو ۔ پھر آپ کی ازواجِ مطہرات امہات المؤمنین اور دیگر اہلِ بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی محبت ہے ۔صحابہ کرام میں بطورِ خاص خلفائے راشدین ،عشرہ مبشرہ مہاجرین اور انصار، بدری صحابہ ،بیعت ِرضوان میں شریک صحابہ اور پھر بقیہ تمام صحابہ کرام ہیں ،جو خالص محبت کے مستحق ہیں۔ پھر تابعین کرام پھر أئمہ اربعہ وغیرہ کی محبت قابلِ ذکر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : [وَالَّذِیْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۧ]  ترجمہ:اور ان کے لئے بھی جو ان مہاجرین کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں ،گناہ معاف فرما اور مؤمنوں کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار !تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ جس کے دل میں ایمان ہوگا ،وہ کبھی صحابہ کرام یا سلف صالحین سے بغض یا عداوت