کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 50
نہیں رکھے گا ، اس مقد س جماعت سے بغض قائم کرنا کج رو،منافقین اور اسلام دشمن افراد کا شیوہ ہے ،مثلاً:روافض اور خوارج وغیرہ…ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (۲) صرف بغض و عداوت ر کھے جانے کے اہل افراد یہ کفار ،مشرکین ،منافقین ،مرتدین اورملحدین کی جماعت ہے ،جن کی اجناس مختلف ہیں (لیکن قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ تمام لوگ عقیدئہ خالصہ ،عقیدئہ توحید کے منکر ہیں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ ۭ] ترجمہ: جو لوگ اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ،انہیں تم ایسے لوگوں سے دوستی رکھنے والا نہیں پاؤ گے ،جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہوں ،خواہ وہ ان کے ماں باپ ،بہن بھائی یاخاندان کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: [تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ۭلَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ اَنْفُسُہُمْ اَنْ سَخِـــطَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَفِی الْعَذَابِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ 80؀ وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالنَّبِیِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَاۗءَ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ 81؀]