کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 51
ترجمہ: تم ان میں سے بہتوں کو دیکھوگے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں ، انہوں نے جوکچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے بُرا ہے ۔(وہ یہ) کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی ،اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے ،لیکن ان میں سے اکثر بدکردار ہیں۔ (۳) و ہ افراد جو محبت اور عداوت د و نو ں کے مستحق ہیں اس سے مراد وہ مؤمن ہیں کہ جن میں بوجوہ کچھ نافرمانیاں پائی جاتی ہے (لیکن عقیدہ صحیح ہے ) یہ لوگ اپنے حسنِ عقیدہ اور دولت ایمان کی وجہ سے محبت کئے جانے کے قابل ہیں ، لیکن بعض نافرمانیوں کے مرتکب ہونے کی بناء پر ناراضگی کے مستحق ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ان کی نافرمانی کفر یا شرک کی حد کو نہ پہنچتی ہو۔(کیونکہ اگر ان کی نافرمانی کفر یا شرک کی حدود تک پہنچ گئی تو پھر یہ لوگ بھی دعویٰ ایمانی کے باوجود مکمل نفرت اور بغض کے مستحق ہیں)