کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 52
ایسے لوگوں کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے ساتھ خیرخواہی کی جائے اور جن نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں، ان کا انکار کیا جائے ۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں پر خاموش رہنا جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم جذبۂ خیر خواہی کابھرپور برتاؤ ضروری ہے ۔ اور اگر ان کی معصیت ایسی ہوجو شرعی حد کو واجب کرتی ہے تو پھر اس حد یا تعزیر کا نفاذ تاآنکہ اپنی معصیت سے باز آکر توبہ نہ کرلیں بھی خیر خواہی ہے ۔ ایسے لوگوں سے مکمل بغض ،ناراضگی اور نفرت روا نہیں ہے ،جیسا کہ خوارج کا شیوہ ہے ۔ بلکہ ان کی بابت اعتدال کا دامن تھامے رہنا چاہئے ،چنانچہ حسنِ عقیدہ کی بناء پر ناراضگی ونفرت کا اظہار کیا جائے اور یہی اہل السنۃ والجماعۃ کا مسلک ہے ۔ شرعی ہدایت یہ ہے کہ کسی سے محبت ہوتو اللہ تعالیٰ کی رضاء کی خاطر اورعداوت ہو تو اللہ تعالیٰ کی خاطر ،یہ عقیدہ ایمان کی مضبوط ترین کڑی ہے ،بلکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ(قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس نے دنیا میں محبت کی ) [ اَ لْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ فِی ا لدُّ ْنیَا ] لیکن آج کل حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں ،عمومی طور پر لوگوں کی دوستیاں