کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 53
اوردشمنیاں دنیا کی بنیاد پر قائم ہوچکی ہیں۔ جس سے کوئی دنیوی لالچ یاطمع یامفاد ہو،اس سے دوستی اور محبت کے رشتے قائم کرلئے جاتے ہیں ، خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ ابن جریر نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول نقل کیا ہے :۔ [ مَنْ أَحَبَّ فِی ا للّٰہِ وَأَبْغَضَ فِی ا للّٰہِ وَوَا لٰی فِی اللّٰہِ وَعَا دٰی فِی اللّٰہِ فَاِ نَّمَا تَنَا لُ وِلَایَۃَ ا للّٰہِ بِذٰ لِکَ ، وَ قَدْ صَارَتْ عَامَۃُ مُؤَاخَاۃِالنَّاسِ عَلٰی أَمْرِ الدُّ نْیَا وَذٰلِکَ لَایُجْدِیْ عَلٰی اَھْلِہٖ شَیْئًا ] ترجمہ: جس نے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کی اور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے نفرت کی ،اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دوستی اور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دشمنی کی ،تو وہ اپنے اس نہایت شاندار کردار سے اللہ تعالیٰ کی دوستی اور قرب حاصل کرلے گا ۔لیکن افسوس آج لوگوں کی دوستی اور اخوت دنیوی مفادات پر قائم ہے جو بالکل بے فائدہ اور بے اثر سی روش ہے ۔ وعن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال :[ قَا لَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم :اِنَّ اللّٰہَ تَعَا لیٰ قَالَ: مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَ نْتُہٖ بِا لْحَرْبِ ]