کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 7
ترجمہ:( اور جو ایمان کے ساتھ کفر کر بیٹھے اس کے تمام عمل برباد ہوجائیں گے اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں کی صف میں ہوگا) ہماری اس تقریر سے قارئینِ کرام کو نواقضِ ایمان کی خطرناکی اور بھیانک پن کااندازہ ہوگیا ہوگا،اور ظاہر ہے کہ ایمان تو اصل واساس کی حیثیت رکھتا ہے اور صحیح مسلم کی حدیث [ولا تدخلوا الجنۃ حتی تؤمنوا] کے بمصداق ایمان کے بغیر کسی شخص کو جنت کا داخلہ نصیب نہیں ہوگا، لیکن جس کا ایمان ہی کسی ناقض امر کے ارتکاب کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے ،تو اسے نہ تو دنیا کی سعادت میسر آئے گی نہ آخرت کی فلاح و نجاح، لہذا ایک مکلف کو جس طرح ایمان وعقیدہ کی معرفت اور اس کی لذت وحلاوت سے سرشار ہونا ضروری ہے ،اس قدر ’’نواقضِ ایمان‘‘ یعنی ایمان کو توڑنے اور زائل کرنے والے امور کی پہچان ضروری ہے،تاکہ وہ ان خطرناک امور میں سے کسی بھی امر کے ارتکاب سے بچ سکے، اور اپنے ایمان کو محفوظ ومقبول بنالے،بصورت ِدیگر ایمان کا خاتمہ اور اسکے نتیجہ میں ابدی بربادی کا ناقابلِ تلافی نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ واضح ہوکہ نواقض ،ناقض کی جمع ہے،ناقض ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی بھی مبرم اور قطعی امر یا عقدیا ٹھوس عمارت کو توڑدے۔’’ نواقضِ ایمان‘‘ سے مراد وہ امورہیں جن میں سے کسی ایک کو اپنانے سے،ایمان جیسی ٹھوس چیز ٹوٹ جاتی ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں اس اصطلاح کا ذکر ملتا ہے : عن ابی امامۃ الباھلی رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: [ انتقض عری الاسلام عروۃ عروۃ فکلما انتقضت عروۃ تشبث الناس بالتی تلیھا وأولھن نقضا الحکم وآخرھن الصلاۃ ]