کتاب: دوستی اور دشمنی کا اسلامی معیار - صفحہ 9
صفاتِ باری تعالیٰ میں کسی الحاد مثلاً: انکار ،تعطیل یا مخلوقات سے تشبیہ کی موجب ہو،نبوت کا دعویٰ کرنا ،جبکہ نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی ہے،کتاب وسنت سے ثابت شدہ حقائق میں سے کسی حقیقت کا انکار کردینا ،مثلاً: کوئی شخص ملائکہ یا جنوں کے وجود کا انکار کردے،یا روزِ آخرت کا انکار کردے،یا جنت وجہنم کے وجود کا انکار کردے،یا تقدیر کا انکار کردے یا واقعہ اسراء ومعراج کا انکار کردے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح شعائرِ دین میں سے کسی چیز کا استہزاء کرنا اور مذاق اڑانا بھی ایمان کے قولی نواقض میں سے ہے۔ فعلی یا عملی نواقض سے مراد ایسے اعمال وافعال ہیں جو ایمان سے متناقض ہیں،اور کسی صورت ایمان کے ساتھ اکٹھے نہیں ہوسکتے ،مثلاً: غیر اللہ کو سجدہ کرنا،مصحف(قرآن مجید) کی استہانت اور بے حرمتی کرنا،حکم بغیرماانزل اللہ، جادوسیکھنا، سکھانا،کسی پہ کرنا یا کروانا،یا جادوہوجائے تو اسے جادو کے ذریعہ زائل کرانا،یا نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جانااور ان کی خبروں کی تصدیق کرنا،نماز کا ترک کرنا،یا علماء وصالحین کے علم وصلاح کا مذاق اڑانا یا دین سے مکمل اعراض اور ترکِ تعلق کی روش پر قائم ہونا(یعنی نہ تو دین کو سیکھا اور نہ کبھی کسی مسئلہ پر عمل کیا)وغیرہ وغیرہ ۔ قارئین کرام! اس مختصر سے مقدمہ میں ہمارا مقصود مکمل نواقضِ ایمان پر بحث نہیں، ہم نے محض تقریبِ مسئلہ کیلئے چند مثالوں پر اکتفاء کیا ہے،یہ مختصر سارسالہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے،جس کا موضوع’’الولاء والبراء‘‘ ہے،یعنی دوستی یا دشمنی ،محبت یا نفرت کی