کتاب: درود -1 - صفحہ 82

ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا ’’دو تہائی مقرر کردوں ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جتنا تو چاہے ‘ لیکن اگر زیادہ کرے تو تیرے لئے ہی بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا’’ میں اپنی دعا کا سارا وقت درود کے لئے وقف کرتاہوں ۔‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ تیرے سارے دکھو ں اور غموں کے لئے کافی ہوگا اور تیرے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا ۔‘‘ (ترمذی) ٭ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سننے‘ پڑھتے یا لکھتے وقت درود پڑھنا مسنون ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب