کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 16

بایں ہمہ کسی ضعیف اور کمزور حدیث کاموضوع قرار دیا جانا جب کہ اس کے موضوع ہونے کا قوی امکان موجود ہے اتنا بڑا معاملہ نہیں جتنا کہ کسی موضوع روایت کو درست قرار دینا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے فکر و عمل کی بنیاد بنا لینا ہے اور اگر معاملہ مبادیاتِ اسلام کا ہو ا ورنازک ہو تو بعض علماء کہتے ہیں کہ ’’معیار نبوت کو گرانے سے بہتر یہ ہے کہ راویوں کی ثقاہنت مجروح قرار دی جائے خصوصاً جب اس کا امکان موجود ہے کہ کسی بدوین اور جھوٹے راوی نے موضوع روایت کو ثقہ راویوں کی حدیث میں داخل کر دیا ہو‘‘۔ زیرِ نظر کتاب فتنہ ٔ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان اصلاً ایک مقالہ ہے جو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں M-T-H کی ڈگری لینے کے لئے راقم نے مولانا پروفیسر محمد تقی امینی صاحب کی زیرِ نگرانی لکھا تھا۔ ایک دینی طالب علم ہونے کے ناطے مجھے اس موضوع سے طبعی مناسبت تھی اور چونکہ اردو زبان میں اس موضوع پر کوئی معقول کتب میری اطلاع کی حد تک نہیں لکھی گئی اس لئے اس عنوان پر کام کرنے کا شوق دامن گیر ہو گیا۔ پھر یہ احساس بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث منبع علم و عرفان ہی نہیں ہے بلکہ سرچشمہ ـ ٔ یقین و ایمان بھی ہے اس لئے اگر اس فیض جاری سے استفادہ کا اور کسی درجہ میں اس کی خدمتکا موقع مل جائے تو یہ سعادت دو جہان ہے۔ چنانچہ اس موضوع سے متعلق دستیاب کتابوں کا مطالعہ کیا اور حاصل مطالعہ قلم بند کیا پھر یہی حاصل مطالعہ مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے جنوری ۱۹۸۷؁ء میں شائع ہو کر مقبول عام ہوا مگر اس میں بہت سی غلطیاں رہ گئی تھیں جن کی وجہ سے کہیں کہیں مقصد ہی فوت ہو جاتا تھا۔ راقم کو نہ تو نظر ثانی کا موقع ملا اور نہ پروف دیکھنے کا بلکہ کتاب کی اطلاع اس وقت ملی جب وہ بازار میں آچکی تھی لہٰذا اس کی اصلاح ازحد ضروری تھی۔ دوسرے ایڈیشن کے لئے جب کتاب کی تصحیح ا ور تہذیب کرنے بیٹھا تو اسے از سرِ نو مرتب کرنے کا خیال کروٹیں لینے لگا چنانچہ تصحیح کے ساتھ ترحیم و اضافہ بھی کرنا پڑا اور حسنِ ترتیب کا بھی لحاظ رکھا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب