کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 18
پہلا باب حدیث: ایک اصولی بحث حدیث کے معنی : حدیث کے معنی جدید کے ہیں۔ حدیث کے مقابلہ میں جو لفظ ا ستعمال کیا جاتا ہے وہ قدیم۔ حدیث کو حدیث غالباً اس لئے کہا جاتا ہے کہ قرآن قدیم ہے اور حدیث قرآن کے مقابلے میں جدید ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری شرح بخاری میں لکھتے ہیں المراد بالحدیث فی عرف الشرع ما یضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکانہ ارید بہ مقابلة القرآن لانہ قدیم " ’’اصلاحِ شریعت میں حدیث سے مراد وہ کلام ہے جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جاتی ہے۔ گویا اسے قرآن کے مقابلہ میں استعمال کیا گیاہے کیونکہ قرآن قدیم ہے‘‘۔ حدیث کی اصطلاح قرآنِ کریم سے ماخوذ ہے۔ چنانچہ علامہ شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں کہ : "ان اطلاق الحدیث علی ما یضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتبس من قولہ تعالی "وامّا بنعمة ربک فحدث" (الضحی : 11) ’’جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے کہی جائے اس پر حدیث کا اطلاق کرنا اللہ کے قول وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ سے مستعار ہے‘‘۔