کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 21

شریعت اور قانون کی بھی ہے جو انسانی زندگی کے لئے آئین اور دستور کی حیثیت رکھتی ہے۔ غالباً اسی بناء پر علماء سیر اور مغازی کے طریقہ تحقیق سے محدثین کااصول تحقیق منفرد اور ممتاز ہے جیسا کہ آگے معلوم ہو گا۔ حدیث اور سنت: حدیث اور سنت یہ دونوں اصطلاحیں معروف ہیں۔ بعض محدثین کے نزدیک حدیث اور سنت دونوںمترادف الفاظ ہیں جن کے معنی اور مفہوم میںکوئی فرق نہیں جبکہ بعض دیگر محدثین ان کے درمیان کچھ فرق کرتے ہیں۔ سنت کا معنی راستہ اور طریقہ ہے جس پر چلا جائے یاعمل کیا جائے اور حدیث کا معنی وہ واقعہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں ایک ہی مرتبہ کیاہو۔ سنت کا اطلاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال وافعال پر بھی ہوتاہے۔ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ ’’تمہارے اوپر میری سنت اور برسرِ ہدایت خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے ا سے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو (مضبوطی سے تھام لو)‘‘۔ مگر حدیث کااطلاق صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وا فعال اور تقریر پر ہوتا ہے اور جوکچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے اسے اثر کہا جاتا ہے۔ پھر جب سنت کالفظ مطلق استعمال کیا جاتا ہے تو عام طور پر اس سے مراد طریقہ محمود اچھا راستہ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے : ﴿ سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا 77؀ۧ ﴾ (الاسراء : 77) اور جب بُرے معنوں میں یعنی ناپسندیدہ راستہ کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے تو قید کے ساتھ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے: من سن سنةسيئة كان عليه وزرها و وزر من عمل بها الى يوم القيامة

  • فونٹ سائز:

    ب ب