کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 22

’’جس نے کوئی بُرا طریقہ رائج کیا اس پر اس کا گناہ ہو گا اور قیامت تک جو بھی اس پر عمل کرے گا اس کا بھی گناہ ہو گا‘‘۔ حدیث اور سنت کے معانی سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں مترادف اصطلاحات نہیںہیں بلکہ ان کے مفاہیم میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہے۔ حدیث کمزور، معطل، مقطوع، منکر اور موضوع بھی ہوتی ہے مگر سنت منکر و موضوع نہیں ہوتی، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صرف منسوب ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس ثابت شدہ طریقہ محمود اور راہِ عمل سے عبارت ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں اختیار کیا، جس کی مسلمانوں کو تعلیم دی اور جو ہم تک معتبر ذریعہ سے منتقل ہوئی۔ اس بنیاد پر یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ فلاں حدیث موضوع ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں سنت موضوع ہے۔ اگر اس فرق کو ذہن میں رکھا جائے تو محدثین کے اس طرح کے جملوں کا صحیح مفہوم سمجھا جا سکتا ہے کہ "هذا الحديث مخالف للقياس والسنة" یہ حدیث سنت اور قیاس کے خلاف ہے۔ حدیثِ قدسی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کچھ چیزیں اللہ کی طرف منسوب کر کے فرمایا کرتے تھے مگر قرآن میں وہ موجود نہیں، ایسی احادیث کے صرف معانی اللہ کی طرف سے القاء ہوئے، الفاظ اور اسلوب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے تھیـ۔ اس طرح کی احادیث کو ’’حدیثِ قدسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ بروایت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کہتا ہے کہ : "يا عبادي اني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا ، يا عبادي كلكم ضال الا من هديته فاستهدوني اهدكم ، يا عبادي كلكم جائع الا من اطعمته فاستطعموني اطعمكم ،يا عبادي كلكم عار الا من كسوته فاستكسوني اكسكم ، يا عبادي انكم تخطئون بالليل والنهار وانا اغفر الذنوب جميعا فاستغفروني اغفر لكم "

  • فونٹ سائز:

    ب ب