کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 23

’’اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے تو تم آپس میں ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤںگا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہنا دوں تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس عطا کروں گا۔ اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہ معاف کرتا ہوں تم مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہاری گناہ معاف کروں گا‘‘۔ حدیث اور سیرت: سیرت حدیث کے اندر داخل ہے مگر ایک فن کی حیثیت سے دونوں میں فرق بھی ہے اور ان کے جداگانہ مسائل بھی ہیں۔ ان کے مقاصد اور اسلوب میں بھی قدرے تفاوت ہے۔ اصحاب حدیث کا مقصود بالذات احکام و مسائل کو جانتا ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے ان کی بحث ضمناً یاالتزاماً ہوتی ہے اور اصحابِ سیرت کا مقصود بالذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے واقفیت فراہم کرناہوتا ہے اور احکام و مسائل سے ان کی بحث ضمناً ہوتی ہے۔ نیز محدثین رواۃ کی ثقاہت، عدل، تقویٰ اور دیانت کی کمی اور زیادتی کی بنا پر روایتوں میں اختلاف کے وقت مقبول روایتوں کو ترجیح دیتے ہیں اور اصحابِ سیرت حالات کی موافقت اور واقعات کے علم کی بناء پر ترجیح دیتے ہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب