کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 25

اعلان کیا ہے کہ : فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا (النساء : 65) ’’تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ ہرگزمومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی معاملات میں تم کو حاکم نہ مان لیں، پھر تم جو کچھ بھی فیصلہ کرو اس کے لئے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں‘‘۔ قرآن کریم کے مجمل احکام کی تفصیل، عموم کی تخصیص او رمدلولات کی تعیین کاواحد اور مستند ذریعہ حدیث ہے۔ پھر یہ کہ مختلف حالات میں أن کا انطباق اور امت میں ان کانفاذ اور دیگر تشریعی امور میں راہنمائی حدیث کے سوا دوسری چیزوں سے نہیںہو سکتی اس لئے قرآن کو حدیث سے الگ کر کے نہ تو سمجھایا جا سکتا ہے اور نہ اس سے کوئی صحیح نتیجہ برآمد کیا جا سکتا ہیـ۔ شریعت کی تشکیل میں حدیث کا مقام : حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حیثیت نہیں ہے کہ وہ کلام اللہ کی شارحین اور ترجمان ہے اور اس کی تفصیلات متعین کرتی ہے بلکہ اس کی ایک اہم حیثیت یہ ہے کہ وہ بھی اسلامی شریعت کی تشکیل کرتی ہے۔ اخلاقی اور قانونی احکام دیتی ہے۔ ان کی حدود مقرر کرتی ہے، حرام و حلال کامعیار بتاتی ہے۔ یعنی قرآن ہی کی طرح وہ اسلامی شریعت کا دوسرا یقینی سرچشمہ ہے۔ اسلام کے بنیادی عقیدے میں یہ بات شامل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف پیغام بر یا نامہ بر یا واسطہ نہیں ہیں بلکہ ہادی و رہنما بھی ہیں۔ معلم و مربی بھی ہیں، قائد و قانون ساز بھی ہیں۔ روحانی مرع اورمطاع برحق بھی ہیں اور یہی معاملہ حدیث کا ہے اس کو تسلیم کئے بغیر امان اوراسلام کا دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں اور اس کا منکر اللہ کے انعام کا سزاوار نہیں اور یہ مقام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اللہ کی ذات نے عطا کیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے قرآن کہتا ہے:

  • فونٹ سائز:

    ب ب