کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 26

مَا اَتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا (الحشر : 7) ’’جوکچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ‘‘۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سے تشریعی امور، معاشرتی اور اقتصادی مسائل اور سماجی و اخلاقی معاملات میں قرآن اصول و ضوابط بیان کر دیتا ہے۔ تفصیل نہیں بیان کرتا، حکم بیان کرتا ہے۔ قیود و شراط نہیں بتاتا، رُوح بیان کرتا ہے۔ ہئیت پر روشنی نہیں ڈالتا، حکمت بتا دیتا ہے۔ جزئیات اور فروع کا احاطہ نہیں کرتا، ان تمام چیزوں کوشعورِ نبوت کے حوالے کر دیتا ہے جس کی تربیت اللہ تعالیٰ اپنے فیضانِ خاص سے کرتا ہے۔ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن احکام کی تشریح کرتے ہیں اور جو کچھ ان کے سلسلے میں طے کرتے ہیں یا ان کو مکمل کرنے والے جو دوسرے احکام جاری کرتے ہیں وہ اسی طرح واجب الاطاعت ہوتے ہیں جس طرح قرآن کے محکم قوانین ہوتے ہیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ اَمَنُوْا اَطِيْعُوْا اللهَ وَاَطِيْعُوْا الرَّسُوْلَ وَلاَ تُبْطِلُوْا اَعْمَالَكُمْ (محمد : 33) ’’اے مومنو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو‘‘ـ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات واجب الاطاعت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت واجب الاطاعت ہے۔ بروایت مقداد ابنِ معدیکرب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "الاهل عسى رجل يبلغه الحديث عني وهو متكئ على الركيته فيقول بيننا وبينكم كتاب الله فما وجدنا فيه حلالا استحللنا وما وجدنا فيه حراما حرمناه وان ما حرم رسول الله كما حرم الله " ’’خبردار! عنقریب کسی شخص کو میری حدیث پہنچے گی اور وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے ہوا ہو گا

  • فونٹ سائز:

    ب ب