کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 27

تو وہ کہے گا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے اس میںہم جس چیز کو حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو حرام پائیں گے اسے حرام سمجھیں گے۔ خبردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے وہ اسی طرح حرام ہے جس طرح اللہ کی حرام کردہ چیز‘‘۔ ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے ساتھ سنت کو سرچشمہ ہدایت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ: تركت فيكم امرين لن تضلوا ماتمسكتم بهما كتاب الله وسنة نبيه  ’’میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں اگر تم نے ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لیا تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی کی سنت‘‘۔ امام مالک رحمہ اللہ نے یہ روایت "بلغني" کے لفظ سے بیان کی ہے اور ابن عبد البر نے کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کے حالہ سے متصلاً بیان کی ہے۔ صحابہ کرام کا حدیث میں انہماک : حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی وہ اہمیت اورعظمت تھی جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تحصیل، تعلیم، تحفظ اور ترویج و اشاعت میں حد درجہ انہماک پیدا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک معتد بہ تعداد ایسی تھی جن کا وظیفہ زندگی حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنا اور اس کو پھیلانا تھا۔ بروایت امام زہری رحمہ اللہ ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ : ’’تم لوگ یہ کہتے ہو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتے ہیں اور انصار و مہاجرین کو کیاہو گیا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی طرح حدیث بیان نہیں کرتے جب کہ واقعہ یہ ہے کہ میرے مہاجرین بھائی بازار کی خرید و فروخت

  • فونٹ سائز:

    ب ب