کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 29

سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : "ان نبيكم صلی اللہ علیہ وسلم كان يحدثنا فنحفظ فاحفظوا كما كنا نحفظ " ’’تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہم اسے یاد کر لیا کرتے تھے تو تم بھی یاد کر لیا کرو جس طرح ہم یاد کرتے تھے‘‘۔ سیدناابن عباس کہتے ہیں کہ ہم حدیث کو یاد کرتے تھے اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہی کرنے کے لئے ہے عرب میں اس وقت لکھنے کا عام رواج نہ تھا، ابتداء اسلام میں بہت تھوڑے لوگ لکھناجانتے تھے، سب سے زیادہ تعداد جس روایت میں آتی ہے وہ چوبیس ہے۔ بعض مؤرخوں نے صرف سترہ تعداد بتائی ہے۔لکھنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم کی عہدِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مجموعی تعداد اکتالیس تھی۔ پھر لکھنے کے وسائل بھی میسّر نہ تھے اس صورت میں لازمی طور پر وہ اپنی قوتِ حافظہ پر اعتماد کرتے تھے ا ور اس سے وہی کام لیتے تھے جو ہم قرطاس و قلم سے لیتے ہیں۔ عربوں کاحافظہ بہت مضبوط ہوتاتھا وہ اپنے گھوڑوں تک کے نسب نامے یاد رکھتے تھے، اس لئے حدیث کا یاد رکھناان کے لئے یاد رکھنا بہت آسان تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ رضی اللہ عنہم کی نظر میں جو مقام تھا اور جس عقیدت ومحبت اور جانثاری کاان سے تعلق تھا اس کے پیشِ نظر حدیثِ رسول کا یاد کرنا عین تقاضائے محبت اور مطالبہ ایمان تھا۔ چنانچہ اسی مقدس جذبہ کے تحت ان پاک نفوس اصحاب رضی اللہ عنہم نے اسے یاد کرنے اور یاد رکھنے کا اہتمام بھی کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے ادوار میں حدیث یاد کرنے کارجحان بہت زیادہ بڑھا۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی موجو نہ رہی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حفاظت اور اس سے استفادہ کے جذبے نے صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین رحمہ اللہ اور بعد کے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ حدیث کو یاد کریں۔ چنانچہ ان حضرات نے لاکھوں کی تعداد میں حدیث کو یاد کیا اوردنیائے علم میں ’’حافظ‘‘ کے لقب سے یاد کئے گئے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے

  • فونٹ سائز:

    ب ب