کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 30

ہیں کہ میں نے اپنی کتاب ’’مسند احمد‘‘کو سات لاکھ پچاس ہزار احادیث سے منتخب کر کے مرتب کیا ہے۔ اور زرعہ رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہزار ہاہزار حدیثیں یاد کر لیا کرتے تھے۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے ہزاروں حدیثیں لکھی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کاقول ہے کہ میں ایک لاکھ صحیح اور دولاکھ غیر صحیح احادیث کا حافظ ہوں۔ امام مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے صحیح مسلم کو تین لاکھ سنی ہوئی احادیث سے منتخب کر کے مرتب کیاہے۔ حاکم رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ ایک ایک حافظ پانچ لاکھ حدیثیں یاد کر لیتا تھا۔ امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے جس نے بھی کوئی حدیث بیان کی یااب تک میں نے جو کچھ لکھا سب میں نے یاد کر لیا، یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ مجھے پچیس ہزار احادیث سند کے ساتھ یاد ہیں اور اس میں کوئی فخر نہیں ہے۔ ایسے حافظ حدیث کی فہرست بہت طویل ہے تاہم مذکورہ اقوال سے یہ اندازہ لگانا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حدیث کے یاد کرنے کا جو اہتمام مسلمانوں نے کیا وہ دنیا کی کسی قوم سے اپنی مذہبی و مقدس کتاب کے سلسلے میں نہ ہو سکا، کجا کہ وہ اپنے مذہبی رہنما کے اقوال و افعال کا استناد باقی رکھتے اور اس ریکارڈ کو زمانہ کی خرد برد سے بچاتے۔ طلبِ حدیث کے لئے سفر: حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل کرنے کے لئے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ دور دراز سے آیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات و تعلیمات کو سینے سے لگائے اپنے علاقوں کو واپس جایا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو جاننے اور حاصل کرنے کے اشتیاق میں اسفار اور نقل و حرکت کا سلسلہ مزید بڑھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور پھر تابعین رحمہ اللہ اور تبع تابعین رحمہ اللہ کوجہاں سے بھی حدیث کے ملنے کی اطلاع ملتی وہ فوراً رختِ سفر باندھتے اور وہاں پہنچ کر حدیث حاصل کرتے، اس زمانہ میں سفرکرنا آسان نہ تھا، راستے دشوار اور ناہموار تھے سواریاں زود رفتارنہ تھیں

  • فونٹ سائز:

    ب ب