کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 31

پھر بھی طلبِ سادق اور شوقِ حدیث ان کو مقامِ حدیث تک پہنچا دیتا تھا۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "كان يبلغنا الحديث عن رجل من اصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم فلو شاء ان ارسل اليه حتى يجيئني فيحدثني فعلت ولكني كنت اذهب اليه فاقبل على بابه حتى يخرج الى فيحدثني ’’ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کے حوالہ سے حدیث پہنچتی تو اگر میں یہ چاہتا کہ اس صحابی رضی اللہ عنہم کے پاس آدمی بھیجوں تاکہ وہ آکر حدیث بیان کریں تو ایسا میں کرسکتا لیکن میں خود ان کے پاس جاتا اور ان کے دروازہ پر ٹھہرتا تاآنکہ وہ میرے پاس نکل کر آتے اور مجھے حدیث سناتے‘‘۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ایک حدیث حاصل کرنے کے لئے ایک مہینہ کی مسافت طے کر کے عبداللہ بن انیس کے پاس شام گئے تھے۔ابو العالیہ رفیع بن مہران کہتے ہیں : "كنا نسمع الرواية بالبصرة عن اصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فلم نرض حتى ركبتا الى المدينة فسمعنا من افواههم "  ’’ہم بصرہ میں کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کوئی روایت سنتے تو ہرگز اس پر اکتفا نہ کرتے تاآنکہ مدینہ پہنچ کر خود ان کی زبانی حدیث نہ سن لیتے‘‘۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث سننے، یاد کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی جو اہمیت بیان فرمائی تھی اور اس سلسلہ میں جو دعائیں دی تھیں اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اہلِ ایمان اس معاملہ میں انتہائی جوش و خروش اور حرارتِ ایمانی کامظاہرہ کرنے لگے اور لمبے لمبے اسفار پر کمربستہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "نضر الله امرء أسمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه فرب مبلغ اوعي من سامع " ’’اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی تو اسے یاد کر لیا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا اور بہت سے پہنچائے جانے والے سامع سے زیادہ باشعور ثابت ہوتے ہیں‘‘۔ "نضّر الله امرئًا سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه فرب حامل فقه الىمن هو افقه منه ورب حامل فقه ليس بفقيه "

  • فونٹ سائز:

    ب ب