کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 32

’’اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی، اسے محفوظ رکھا یہاں تک کہ دوسروں تک پہنچایا، کتنے ہی حامل فقہ ایسے شخص تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں اور بہت سے حامل فقہ خود فقیہ نہیں ہوتے‘‘۔ اس بشارت نے سماعت و حفاظتِ حدیث کی تحریک میں مہمیز لگائی اور اہلِ علم نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے وقف کر دیا۔ اس راہ میں ہر طرح مشقت برداشت کی اور اسلامی قلمرو کا ہر کونہ چھان ڈاا۔ مشہور مستشرق گولٹ سیہر کے بقول: ’’حدیثوں کو جمع کرنے کے لئے محدثین نے اسلامی دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے، اندلس سے وسط ایشا تک، شہر شہر اور گاؤں گاؤں کا پیدل سفر کیا تاکہ دوسروں تک حدیث منتقل کر سکیں۔ اس زمانہ میں حدیث جمع کرنے کی اس سے زیادہ معتبر اور قابلِ اعتماد صورت نہ تھی۔ رحال (زیادہ سفر کرنے والے) اور جوال (زیادہ سیاحت کرنے والے) کے قابلِ فخر القاب دراصل ان بلند پایہ لوگوں سے کبھی جدا نہیں ہوئے۔ راہِ علم کے مسافروں کے لئے ’’طواف الاقالیم‘‘ ملکوں کا دورہ کرنے والے نہ کبھی استعارہ پر مبنی ہے اور نہ اس میں کسی طرح کا مبالغہ ہے، ان لوگوں نے تمام ملکوں کا سفر محض سیر و تفریح یا تجربہ حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا، بلکہ ان کا مقصد صرف حدیث کے جاننے والوں سے ملنا اور ان سے حدیثیں حاصل کرناتھا۔ حدیث کی طلب و جستجو میں ان کی مثال اس چڑیا کی تھی جوہر درخت پر اس کی پتیوں سے غذا حاصل کرنے کے لئے بیٹھتی ہے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب