کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 33

حدیث کی تدوین : جیسا کہ عرض کیا گیا کہ ابتدائے اسلام میں فن کتابت سے واقفیت رکھنے والوں کی تعداد انتہائی قلیل تھی، لکھنے کے وسائل فراہم نہ تھے، اس لئے لکھنے کا عام رواج نہ تھا۔ دوسری طرف قرآن نازل ہو رہاتھا۔ اس کی دائمی حفاظت کا مطالبہ یہ تھا کہ اسے ضبطِ تحریر میں لایا جائے اور صرف یادداشت کو کافی نہ سمجھا جائے۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو جن میں لکھنے کی صلاحیت تھی قرآن کی ترقیم وتحریر کا فریضہ سونپ دیا تھا۔ اس صورتِ حال میں ظاہر ہے کہ حدیث کے لکھنے کااہتمام نہیں کیا جا سکتا تھا اس کے لئے حافظہ پر اعتماد کرنا کافی سمجھا گیا۔ پھر ابھی ا سلام ابتدائی مرحلہ میں تھا۔ اسا کے احکام وہدایات اور تعلیمات کے بہت سے پہلو ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ موجودہ احکام کا لوگوں کے دل و دماغ میں راسخ ہونا ازحد ضروری تھا۔ لوگوں کی شعوری سطح اس معاملہ میں اتنی پختہ اور بلند نہ ہو سکی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق قرآن و حدیث میں بتمامہٖ امتیاز کر لیتے اور ان کو مناسب مقام دیتے، قرآن و حدیث میں اس اختلاط کے خطرہ کے پیشِ نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو لکھنے کی ہدایت فرمائی اور ہر ممکن اہتمام کیا جب کہ حدیث کے لکھنے کی ہدایت نہیں فرمائی۔ قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حافظہ کے ساتھ، چمڑے، چھال، پتی اور پتھر وغیرہ پر محفوظ کرایا اور حدیث کو صرف یاد رکھنے کی طرف توجہ دلائی، اسی حکمت اور ضرورت کا تقاضا تھا کہ بعض حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کے لکھنے سے منع فرمایا۔ چنانچہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا تكتبوا عني شيئًا الا القرآن ومن كتب عني فليمحه وحدثوا عني فلا حرج " ’’مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا وہ اسے مٹا دے اور میری حدیث بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب