کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 34

بعض اہلِ علم کا خیال یہ ہے کہ حدیث میں ایک ہی جگہ قرآن کے ساتھ دوسری چیز لکھنے سے منع فرمایا تاکہ کوئی قرآن کی ساتھ اور کچھ بھی شامل نہ کر لے۔ جب لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، لوگوں کی شعوری سطح بلند ہونے لگی اور قرآن و حدیث میں اختلاط کاخطرہ کم ہوا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کی ممانعت ختم کر دی اور حدیث کی ترقیم کی عام اجازت دیدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قيد والعلم بالكتابه" ’’علم کو ضبطِ تحریر میں لے آؤ‘‘۔یہاں علم سے مراد حدیث ہے۔ نتیجہ میں اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث قلمبند کیںاور حسبِ ضرورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی احادیث لکھوائی۔ ایک مرتبہ بنی خزاعہ نے فتح مکہ کے سال بنی لیث کے ایک آدمی کو پرانے قتل کے بدلہ میں قتل کر دیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ سواری پر تشریف لائے اور خطاب فرمایا: ’’اللہ نے مکہ میں قتال کو حرام کر دیا ہے اور مکہ کا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو مختار بنایاہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد، اس میں خونریزی کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے، مگر دن کے ایک حصہ میں میرے لئے یہ حلال کیا گیا تھا اور اس وقت یہ حرام ہے، نہ اس کا کانٹااکھاڑا جائے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ گمشدہ چیز (کسی اورکی) کو اٹھایا جائے، جو قتل کیا گیا ہے اس کے وارث کو اختیار ہے کہ یا دیت وصول کرے یا بدلہ لے لے‘‘۔ ایک شخص یمن سے حاضر ہوا اور عرض کیاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے لئے لکھوا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا اكتبوا لابي شاه ـ ’’ابوشاہ کے لئے لکھ دو‘‘۔ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : يارسول الله انا نسمع منك احاديث لا نحفظها افلا نكتبها ؟ قال بلى فاكتبوها ، وفي رواية قلت يارسول الله اني اسمع منك اشياء افاكتبها ؟ قال نعم قلت في الغضب والرضا قال نعم فاني لااقول فيهما الا حقا 

  • فونٹ سائز:

    ب ب