کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 39
حدیث کے معاملہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی احتیاط : انبیاء علیہم السلام کے بعد انسانیت کا بہترین طبقہ وہ ہے جسے ہم صحابہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ صحابہ نہ صرف امتِ محمدی میں بلکہ عام انسانوں میں سب سے اعلیٰ اور افضل سیرت و کردار کے حامل اور بلند مرتبہ پر فائز ہیں۔ صحابہ کی تعریف محمد بن اسماعیل بخاری نے اس طرح کی ہے: "من صحب النبی صلی اللہ علیہ وسلم او راہ من المسلمین فہو من اصحابہ " ’’مسلمانوں میں سے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی ہو یا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہو وہ صحابی ہے‘‘۔ (۱)۔ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں : "من لقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنا بہ ومات علی الاسلام " ۔ علامہ مازری صحابہ کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ: لسنا لغنی بقولنا "الصحابة عدول" کان من راہ صلی اللہ علیہ وسلم یوماً ما او زارہ لماما او اجتمع بہ لغرض وانصرف عن کثب وانما لغنی بہ الذین لازموہ وعزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون" ’’جب ہم یہ کہتے ہیں کہ صحابہ عادل ہیں تو اس سے مراد ہر وہ شخص نہیں ہوتاجس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دن دیکھا ہو یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی زیارت کی ہو یاکسی مقصد کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہواور فوراً واپس چلا گیا ہو بلکہ اس سے ہماری مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تقویت پہنچائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، اور اس نور کی پیروی کی جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نازل ہوا اوروہی لوگ کامیاب ہیں‘‘۔