کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 42

پس جو لوگ اس آیت کا مصداق تھے وہ مسلمان ضرور تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرفِ ملاقات ہونے کے باعث صحابہ میں شمار بھی ہوتے تھے لیکن طویل صحبت و تربیت یافتہ نبوی صحابہ جیساان میں نہ ورع و تقویٰ تھا اور نہ اپنے قول و عمل میں ان کی طرح محتاط تھے۔ اسی بناء پر (نیک نیتی سے سہی) جب کبھی ان و اپنی رائے یا خیال کو موکد کرنا ہو انہوں نے بے تکلف ایک قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا خواہ انہوں نے یہ قول اپنے جی سے گھڑا ہو یا انہی کے متعلق کسی غیر ذمہ دارشخص سے سنا ہو۔  صغار صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق مولانا کی رائے ہمارے نزدیک قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ آیت میں جن لوگوں کا تذکرہ ہے ان کی صحابیت کی نفی خود "لما يدخل الايمان في قلوبكم" سے ہو جاتی ہے۔ ہم کسی صحابی پر وضع حدیث کا الزام بغیر مسند تاریخی حوالہ کے نہیں لگا سکتے پھر جس کے متعلق یہ ثابت ہو جائے ہم اسے صحابی نہیں قرار دے سکتے۔ بایں ہمہ اس امکان سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ کسی صحابی کو حدیثِ رسول کا پورا پس منظر سمجھنے میں نکامی ہوئی ہو یا مدعائے کلام ان سے کسی وجہ سے اوجھل رہ گیا ہو اور اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انہوں نے جو بات منسوب کی ہو فی الواقع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مدعا نہ رہا ہو۔ مثلاً مسروق رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے آکر اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نمازی کے آگے سے اگر کتا، گدھا اور عورت گزر جائے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ اس پر اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: شبهتمونا بالحمر والكلاب والله لقد رأيت النبي صلی اللہ علیہ وسلم يصلي وانا على السرير بينه وبين القبلة مضطجعة فتبد ولي الحاجة فاكره ان اجلس واوزي النبي صلی اللہ علیہ وسلم فانسل من عند رجليه

  • فونٹ سائز:

    ب ب