کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 44

وضع حدیث پر وعید: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح حدیث کو حاصل کرنے کی ترغیب دی اور اس کے حاملین کے لئے دعا فرمائی اسی طرح حدیث وضع کرنے یا حدیث کینام پر کوئی غلط بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے سختی سے منع فرمایا اور ایسے لوگوں کو نارِ جہنم کی وعید سنائی جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کوئی غلط بات کہیں۔ چونکہ وضع حدیث کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ ایک بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دی گئی جس طرح دوسرے انسانوں کی طرف منسوب کر دی جاتی ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شارع اور معمارِ دین ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شریعت میں فساد پیدا کیا جائے ، مزاجِ دین کو بگاڑا جائے، انسانوں کو گمراہ کیا اور امتِ مسلمہ کو صراطِ مستقیم سے برگشتہ کر دیا جائے۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حرکت پر کلی پابندی عائد فرمائی اور اس کی سزا جہنم قرار دی۔ چنانچہ معتبر کتب احادیث میں اس سلسلہ کی بہت سی احادیث وضع حدیث کی شناعت کو بیان کرتی ہیں۔ یحییٰ بن میمون مصری کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ فاقعی نے عقبہ بن عامر الجہنی کو منبر پر حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے دیکھا تو کہا کہ یہ صاحب یا تو حافظِ حدیث ہیں یا ہلاکت میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہم سے آخری عہد لیا تھا وہ یہ تھا کہ: عليكم بكتاب الله وسترجعون الى قوم يحبون الحديث عني فمن قال على ما لم اقل فليتبوأ مقعده من النار ومن حفظ شيئا فليحدثه ’’تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی لازم ہے ا و رجلد ہی ایسے لوگوں سے تم کو سابقہ پیش آئے گا جو میرے حوالہ سے حدیث بیان کرنا پسند کریں گے تو جس نے بھی وہ بات میری طرف منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے اور جس نے کوئی حدیث یاد رکر رکھی ہے تو وہ بیان کرے‘‘۔ عن مغيرة بن شعبة قال سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم يقول الكذب على ليس ككذب على احد من كذب على فليتبوأ مقعده من النار 

  • فونٹ سائز:

    ب ب