کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 49

چھوڑ دیا کہ نہ ان کا کوئی شوہر ہے اور نہ وہ بے شوہر کی ہیں‘‘۔ موضوع روایت کاحکم: خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ حدیث بیان کرنے میں احساسِ ذمہ داری اور کمال احتیاط کی ضرورت ہے، جب یقین کے ساتھ کسی روایت کا صحیح ہونا نہ معلوم ہو جائے اور روایت حدیث کے کسی معتبر مجموعہ میں نہ دیکھ لی جائے اس وقت ت اسے بیان نہیں کرنا چاہئیے۔ بعض علماء نے تو یہاں تک پابندی لگائی ہے کہ جو شخص صحیح اور ضعیف روایات کی تمیز سے ناواقف ہے اس کے لئے کسی مجموعہ حدیث سے بھی روایت نقل کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ اہلِ علم سے نہ پڑھ لے۔ نیز بغیر حوالہ کے حدیث بیان کرنے اور لکھنے سے پرہیز کرنا چاہئیے۔ صرف سنی سنائی یا ظن و تخمین کی بنا پر حدیث بیان کرنا کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اگر صحیح حدیث بھی ظن و تخمین کی بنا پر بیان کی جائے گی تو بیان کرنے والا گنہگار ہوگا۔ حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں: وان اتفق انه نقل حديثا صحيحا كان اثما في ذالك لانه ينقل ما لا علم به وان صادف الواقع كان اثما باقدامه على ما لم يعلم  ’’اگر حدیث بیان کرنے والے نے اتفاقاً صحیح حدیث روایت کی تو اس میں بھی گنہگار ہو گا کیونکہ اس نے ایسی روایت نقل کی جس کا اسے علم نہ تھا اگرچہ وہ روایت واقعہ کے مطابق ہی ہو اس لئے کہ اس نے ایسی حدیث بیان کرنے کااقدام کیا جس کا اسے علم نہ تھا‘‘ ۔ اور جس روایت کے متعلق یہ معلوم ہو جائے کہ یہ موضوع ہے تو اس کا بیان کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں بلکہ حرام ہے اور بیان کرنے والا گنہگار ہو گا۔ امام نووی رحمہ اللہ نے موضوع روایت کی تعریف کی ہے ۔ الموضوع هو المختلق المصنوع وشر الضعيف

  • فونٹ سائز:

    ب ب