کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 50

’’موضوع من گھڑت بناوٹی روایت کا نام ہے اور یہ ضعیف کی بدترین شکل ہے‘‘۔ پھر اس روایت کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: تحرم روايته مع العلم به في اي معني كان الا مبينا’’اس کا بیان کرنا دانستہ حرام ہے خواہ کسی بھی معنی میں مگر یہ کہ اس کا موضوع ہونا بیان کر دیا جائے‘‘۔ ابنِ صلاح لکھتے ہیں کہ: ولا تحل روايته لاحد علم حاله في اي معني كان الا مقرونا ببيان وضعه ’’جو کوئی موضوع روایت کوجانتا ہے اس کے لئے اس کا بیان کرنا جائز نہیں الایہ کہ وہ اس کا موضوع ہونا واضح کر دے‘‘۔علامہ شریف جرجانی کہتے ہیں: لا يحل رواية الموضوع للعالم بحاله في اي معني كان الا مقرواببيان الوضع ’’موضوع روایت کے واقفِ حال کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی بھی معنی میں اس کو بیان کرے، الاّ یہ کہ اس کا من گھڑت ہوناواضح کرے‘‘۔ ان اقوال و کلیات سے یہ معلوم ہو گیا کہ روایت کا نہ صرف وضع کرنا حرام ہے بلکہ ایسی جھوٹی حدیث کا بیان کرنا بھی حرام ہے اور یہ کہ بیان کرنے والا بھی گھڑنے والے کے زمرہ میں داخل ہے۔ یہ محدثین اور اصولین کی اپنی اختراع نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے، بروایت سیدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكذابين ’’جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب