کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 52

ثقاہت مجروح ہے۔ وہ اگر توبہ بھی کر لے تب بھی اہلِ ع لم کے نزدیک ناقابلِ اعتبار ہے اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک راوی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک جھوٹی حدیث بیان کی پھر توبہ کر لی تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کی توبہ اللہ اور اس کے درمیان مگر اس سے حدیث کبھی نہیں روایت کی جائے گی۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث چار قسم کے لوگوں سے نہیں لی جائے گی: ۸۔ ۱۔ وہ آدمی جو بے وقوفی میں مشہور ہے ا گرچہ وہ زیادہ روایت کرنے والا ہے۔ ۲۔ وہ آدمی جو لوگوں کے معاملے میں جھوٹ بولتا ہے اگرچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ منسوب کرنے کے سلسلہ میں متہم نہیں ہے۔ ۳۔ صاحبِ بدعت جو اپنی بدعت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے۔ ۴۔ وہ شیخ جو عبادت میں معروف ہے مگر اسے اس کا شعور نہیں کہ وہ کیسی حدیث بیان کرتا ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب