کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 53

دوسرا باب وضع حدیث کے اسباب اور محرکات وضع حدیث کی ابتداء : وضع حدیث کی ابتداء ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چالیس سال بعد ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ دینِ اسلام کو قبول کرنے والوں کی تعداد روز افزوں ہو چکی تھی اور اسلامی فتوحات کا سلسلہ روم و ایران او ردیگر ایشیائی ممالک تک پھیلتا جا رہاتھا اور اسلام ایک غالب دین اور عالم گیر تہذیب کی حیثیت سے متعارف ہو چکا تھا۔ جہاں اسلام کے داعی پہنچتے لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے گئے اور خود مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام کی آغوش میں پلنے بڑھنے اور نشوونما پانے کا موقع ملا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت کا معاشرہ شعوری اور عملی سطح کے اعتبار سے دوسرے دور میں داخل ہو چکا تھا جس کی غالب نمائندکی نئی نسل کر رہی تھی۔ ان نوواردانِ اسلام کے معاشرہ میں سابقونِ اوّلون صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی تھی۔ البتہ صغار صحابہ کی تعداد موجود تھی لیکن نئی نسل ہی درحقیقت ملتِ اسلامیہ کی پیشتیبان تھی۔ یہ لوگ چونکہ براہِ راست صحبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضیاب نہیںہوئے تھے اور نہ دربارِ نبوت کی تربیت پائی تھی اس لئے ان کی جانثاری، استقامت اور عزم و حوصلہ اور والہانہ وابستگی کا درجہ وہ نہ تھا جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ پیش آنے والے پرخطر حالات اور صبر آزما لمحات میں وہ صحابہ کارم رضی اللہ عنہم جیسی دلجمعی، بصیرت اور استقامت کا مظاہرہ نہ کر سکے اور نہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب