کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 57

’’یہ احادیث دین ہیں اس لئے تم دیکھ لو کہ دین کس سے حاصل کر رہے ہو کیونکہ جب ہمیں کوئی بات اچھی لگتی تو ہم اسے حدیث بنا دیتے‘‘۔ شیعہ اور وضع حدیث: غالی شیعہ کے بعد عام شیعوں کا معاملہ تھاجو فضائل و مناقب کی حدیثیں وضع کیا کرتے تھے ۔ شروع میں وضع حدیث کا بڑا محرک شخصی مناقب اور خاندانی فضائل تھے۔کیٗونکہ شیعہ حضرات جغرافیائی لحاظ اس سرزمین سے تعلق رکھتے تھے جو ہیرو پرستی میں دوسری قوموں سے ممتاز رہی ہے اس لئے ان کا ذہن شروع ہی سے اس طرح کی کسی بھی صورتِ حال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ چنانچہ ان حضرات نے اہلِ بیت کے مناقب میں حدیث وضع کرنے اور دیگر اصحاب پر اپنے امام کی برتری ثابت کرنے کی برملا کوششیں شروع کر دیں۔ اس کے جواب میں اہلِ سنت کے جاہلوں نے بھی وضع حدیث میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ جوابی کاروائی او رمقابلہ آرائی کے اس مہلک رجحان نے وضع حدیث کا لا متناہی سلسلہ قائم کر دیا۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے: اعلم ان اصل الكذب في احاديث الفضائل جاء من جهة الشيعة وقابلهم جهلة اهل السنة بالوضع ايضا ’’فضائل کی احادیث میں اوّلا جھوٹ کا سلسلہ شیعہ کی طرف سے شروع ہوا اور جوابًا اہلِ سنت کے جاہل طبقہ نے بھی حدیث وضع کی‘‘۔ عراق اس زمانہ میں اہلِ تشیع کا بڑا مرکز تھا اس کے سلسلے میں امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: يخرج الحديث من عندنا شبرا فيرجع الينا من العراق زراعا’’ہمارے یہاں سے حدیث ایک بالشت کی نکلتی ہے اور جب عراق سے لوٹتی ہے تو ایک گز کی ہو جاتی ہے‘‘۔ اسی لئے امام مالک رحمہ اللہ نے عراق کو ’’دار الضرب‘‘ یعنی حدیث ڈھالنے کی فیکٹری کہا تھا جہاں سکوں کی طرح حدیث بڑی تعداد میں ڈھالی جاتی ہے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب