کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 61
’’قیامت کے دن آواز لگانے والا آواز دے گا، فاطمہ رضی اللہ عنہا گزر رہی ہیں اپنی نگاہیں نیچی کر لو‘‘۔ ’’معراج کی شب جبرئیل نے مجھے جنت میں اس درخت کے پاس کھڑا کیا جسکے پھل اور خوشبو سے پاکیزہ تر پھل اور خوشبو میں نے نہیں دیکھی، پھر جبریلؑ نے چھلکا اتار کر وہ پھل مجھے کھلایا اور اللہ نے اس سے میرے صلب میں نطفہ پیدا کیا پھر میں نے خدیجہ سے مباشرت کی اس سے فاطمہ پیدا ہوئیں جب مجھے جنت کا اشتیاق ہوتا ہے تو میں فاطمہ کی گردن کا بوسہ لیتاہوں اس سے مجھے وہی خوشبو مل جاتی ہے۔ یقتل الحسین علی رأس ستین سنة من مہاجری ’’حسین رضی اللہ عنہ ہجرت کے ساٹھویں سال قتل کئے جائیں گے‘‘۔ انا الشجرة و فاطمة فرعہا وعلی لقاحہا والحسن والحسین ثمرتہا وشیعنا ورقہا واصلہا فی جنة عدن ’’میں درخت ہوں، فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کی شاخ ہیں، علی رضی اللہ عنہ اس کا شگوفہ ہیں، حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ اس کے پھل ہیں، شیعہ اس کے پتے ہیں اور اس کی جڑ جنت عدن میں ہے‘‘۔ ان آل محمد شجرة النبوة وآل الرحمة وموضوع الرسالة ’’بیشک آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے درخت ہیں آلِ رحمت ہیں اور موضع رسالت ہیں‘‘۔ اہلِ سنت اور وضع حدیث : اہل تشیع نے صرف اہلِ بیت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں حدیث وضع کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خلفاء ثلاثہ خاص طور پر شیخین رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کی شان میں گستاخانہ روایات وضع کیں ان کوغاصب، فاسق اور مرتد اور دشمنِ رسول جیسے خطابات دئیے اور ان کے اوپر رکیک قسم کے حملے کئے۔ ان پر یہ الزام لگایا کہ ان حضرات نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خانوادہ کے ساتھ ظلم و تعدی کی اور ان کی توہین و تذلیل کی، سیدنا معاویہ رضی اللہ تو ان کے تیرِ غضب کے خاص طور پر نشانہ بنے اور ان کے خلاف بہت سی حدیثیں وضع کیں مثلاً اذا رأیتم معاویة یخطب علی منبری فاقتلوہ’’جب تم میرے منبر پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے دیکھو تو اسے قتل کر دو‘‘وغیرہ۔ اس کے جواب میں اہلِ سنت نے سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیت کی توہین نہیں کی کہ وہ اہلِ تشیع سے زیادہ ان کے سچے معتقد تھے، البتہ بزعمِ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان کو ان کے حملوں سے بچانے کے لئے سچی احادیث کے ساتھ جھوٹی روایات کا بھی سہارا لیا اور جاہلوں نے جعلی روایات ان حضرات کے لئے گھڑنی شروع کیں، خلفاء ثلاثہ اور امیر معاویہ کے متعلق کچھ موضوع روایات یہ ہیں: اذا کان یوم القیامة قیل لابی بکر ادخل الجنة من شئت ’’قیامت کے دن ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا جائے گا کہ تم جس کو چاہو جنت میں داخل کر سکتے ہو‘‘۔ ان اللہ عزوجل یکرہ فی السماء ان یخطأ ابوبکر الصدیق فی الارض