کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 63
علی العرش مکتوب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ابو بکر الصدیق عمر الفاروق عثمان الشہید علی الرضی  ’’عرش پر لکھا ہوا ہے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ ،علی رضی اللہ عنہم اجمعین ‘‘۔ یبعث معاویة یوم القیامة وعلیہ رداء من نور الایمان  ’’قیامت کے دن معاویہ رضی اللہ عنہ اس طرح اٹھائے جائیں گے کہ ان کے اوپر نور ایمان کی چادر ہوگی‘‘۔ الامناء عند اللہ ثلاثة انا جبریل ومعاویة  ’’اللہ کے نزدیک تین اشخاص مامون ہوں گے میں، جبریل اورمعاویہ‘‘۔ اوحی اللہ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم استکتب معاویة فانہ امین مامون ’’اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی کہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے قرآن لکھواؤ کیونکہ وہ امین اور مامون ہیں‘‘۔ انت منی یامعاویة وانا منک ’’معاویہ تم مجھ سے ہو اورمیں تم سے‘‘۔ لا افتقدی الجنة الا معاویة فیاتی آنفا بعد وقت فاقول من این یا معاویة فیقول من عند رب العزة یحیینی ویعلقنی بیدہ ویقول لی ہذا مما نیل من عرضک فی دار الدنیا ’’میں جنت میں صرف معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ پاؤں گا جب وہ عرصہ کے بعد لوٹ کر آئیں گے تو میں پوچھوں گا معاویہ کہاں سے آ رہے ہوں؟ وہ کہیں گے رب العزت کے پاس سے، وہ میراخیر مقدم کررہا تھا اور مجھے چمٹا رہا تھا اورمجھ سے کہہ رہا تھا کہ دنیا میں جو تمہاری عزت میں کمی کی گئی یہ اس کا صلہ ہے‘‘۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل کے سلسلے میں موضوع روایات کا تذکرہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ وغیرہ نے تفصیل سے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ ان احادیث موضوعہ سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ مناقب صحابہ میں کوئی حدیث درست نہیں ہے کیونکہ بہت سے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی تعریف کی بہت سے