کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 66

سیدہ آمنہ کی طرف منسوب یہ روایت بھی بے اصل ہے کہ: ’’اور جب میں دردِ زہ میں مبتلا ہوئی تو ستاروں کی طرف دیکھنے لگی، ایسامحسوس ہو رہاتھا کہ وہ لٹک رہے ہوں، پھر مجھے یوں لگا کہ وہ مجھ پر گر جائیں گے۔ جب (محمد کی) ولادت ہوئی تو اس سے نور نکلا جس سے پورا گھر منور ہو گیا اور میں نور ہی نور دیکھنے لگی‘‘۔ شفا بنت عمر سے بھی اسی طرح کی ایک روایت منسوب کی جاتی ہے کہ جب انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں لیا تو ایک نور ظاہر ہوا جس کی روشنی میں انہوں نے شام کے محلات دیکھے اور یہ ندا آئی کہ اے شفا! تمہارے اوپر اللہ نے رحم کیا۔ پیدائش نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں ان میں روایت و درایت کے لحاظ سے متعدد کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور انہی کمزوریوں کی بناء پر محدثین نے ان کو درخور اعتناء نہیں سمجھا۔ مولانا محمد تقی امینی لکھتے ہیں : ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت کوئی صحابی موجود نہ تھا جس کی روایت قابلِ قبول ہو، ایسی حالت میں یہ روایتیں عمومی شہرت کی بناء پر ہوں گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی وضاحت فرمائی ہو گی، اگر ان واقعات کی شہرت اسی طرح ہوتی جیسی ا ن روایتوں سے ظاہر ہوتی ہے تو بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ رسالت میں جس قدر دشواریاں پیش آئیں

  • فونٹ سائز:

    ب ب